گستاخی رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا انجام
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2300 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 24 متفق علیہ 17
قبیصہ، سفیان، سفیان کے والد، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھوڑا سا سونا بھیجا گیا تو آپ نے اس کو چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا (دوسری سند) اسحاق بن نصر عبدالرزاق، سفیان اپنے والد سے وہ ابن نعم سے وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ نے اس کو اقرع بن حابس کو جو حنظلی اور بن مجاشع کا ایک فرد تھا عینیہ بن بدر قراری اور علقمہ بن علاثہ جو عامری بنی کلاب کا ایک شخص تھا اور زید خیل کو جو طائی اور بنی نبہانکا ایک فرد تھا، تقسیم کر دیا، قریش اور انصار غصہ ہوئے اور کہنے لگے کہ اہل نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں ان کی تالیف قلوب کرتا ہوں۔ ایک شخص آیا کہ اس کی دونوں آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی، داڑھی گھنی دونوں گال اٹھے ہوئے اور سر منڈائے ہوئے تھا اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ڈر، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی اطاعت کون کرے گا جب کہ میں ہی اس کی نافرمانی کروں، اس نے مجھے زمین والوں پر امین بنایا ہے اور تم مجھ کو امین نہیں سمجھتے ہو۔ قوم کے ایک شخص غالبا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کے قتل کرنے کی اجازت چاہی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا، تو آنحضرت نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے اور قرآن انکی حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ لوگ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستی کو چھوڑ دیں گے، اگر میں ان کا زمانہ پالوں تو ان لوگوں کو قوم عاد کی طرح قتل کر دوں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
Labels
- Lanat ho Qadiyanion per (1)
- صبر کرنے والے (1)
- گردش ایام (1)
Blogger templates